خصوصی مضامین

ماہ رمضان کی مبارک باد اسلامی نقطہء نظر میں

ماہ رمضان کی مبارک باد اسلامی نقطہء نظر میں

رمضان المبارک کا چاند جیسے ہی افق فلک پر نظر آتا ہے تو مسلمان آپس میں ایک دوسرے  کو اس ماہ انور کی مبارکبادیاں پیش کرتے ہیں اور چاند مبارک چاند مبارک کے جملے  مسلم محلوں  میں گردش کرتے ہیں بعض احباب  ماہ رمضان مبارک ہو مبارک ہو کہتے ہیں آپس میں  محبت و الفت  سے مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہے کہ ایسےحسین موقع پر بھی کچھ نام نہاد مسلمان اس مبارکبادیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان وسوسہ پیدا کرکے  شیطان  کی نیابت کے  فرائض انجام دیتے  ہیں یہی سوال کسی ساتھی نے  فون کے ذریعے اس فقیر سے بھی پوچھا کہ حضرت رمضان مبارک کی مبارکباد دینا بدعت ہے  یا سنت ہے  قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں فقیر نے سوچا  کہ افادۂ عام  کے خاطر اس جواب کو مختصر مضمون کی شکل دی جائیں  تاکہ دیگر احباب و رفقا کو بھی نفع پہنچے رب  جلیل سے دعا ہے ہے کہ ہمیں دین صحیح معنوں  میں سمجھنے کی توفیق رفیق عنایت فرمائے ان وسوسہ پروروں سے ہماری اور ہمارے ایمان و ایقان کی حفاظت فرمائے  آمین بجاہ سید المرسلین صلی  اللہ  علیہ و سلم.

     اس عنوان پر ہم ایک حدیث اور علامہ سیوطی کی عبارت نقل کر کے  اس  مختصر مضمون کو ختم کرتے  ہیں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم آمد رمضان پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  کو مبارکبادیاں دیا کرتے تھے اور اس ماہ نور  کی قدر دانی  کی خوب نصیحت  و تلقین  فرمایا کرتے تھے حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں ہیں کہ  :

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :أتاكم رمضان شهر مبارك ، فرض الله عز وجلّ عليكم صيامه ، تُفتح فيه أبواب السماء ، وتُغلّق فيه أبواب الجحيم ، وتغلّ فيه مردة الشياطين ، فيه ليلة هي خير من ألف شهر ، من حُرم خيرها فقد حُرم (” رواه النسائي 4/129 ، وهو في صحيح الترغيب 1/490 ) 

   آقائے دو جہاں فرماتے ہیں اے لوگو  تمہارے پاس  ایک ایسا مہینہ  جلوہ گر ہوا ہے  جو نہایت عظمت والا  اور  برکت والا ہے  تمہارے رب  نے اس ماہ کے روزے   فرض کئے  اس مہینے میں  جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں  جہنم کے دروازے  بند کر دیے جاتے  ہیں اور شیاطین  کو زنجیروں سے سے باندھ دیا جاتا ہے  اس مہینے میں  ایک رات ایسی  ہے جو ہزار مہینوں سے افضل  ہے  جو اس ماہ کے خیرات و انعامات  سے محروم رہ گیا گویا وہ تمام نعمتوں سے محروم رہ گیا 

    یہ حدیث شریف  ماہ رمضان کی مبارک باد دینے کے لیے کافی وشافی ہے مزید براں  محقق علی الاطلاق  امام جلال الدین  سیوطی شافعی علیہ الرحمتہ والرضوان نے اپنی کتاب  ” وصول الامانی بأصول التہانئ ” میں ایک خاص عنوان قائم فرمایا ہے ” باب التہنئة بشهر رمضان یعنی ماہ رمضان کی مبارک بادی دینے کا بیان   اس عنوان کے تحت آپ نے مذکورہ بالا روایت نقل فرما  کر حضرت امام ابن رجب حنبلی  کا قول  نقل فرماتے ہیں کہ ” هذا الحديث أصل في التهنئة بشهر رمضان ” یعنی یہ حدیث ماہ رمضان کی مبارکبادیاں  دینے کی اصل اور ثبوت  ہے مذکورہ بالا  ان دو  نوں دلیلوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں وبیاں ہے کہ ماہ رمضان کی مبارک باد دینا اور باہم خوشیاں بانٹنا مشروع امر اور قابل ستائش عمل ہے رب  قدیر سے دعا  ہےکہ ہمیں رمضان کے تمام انوار و برکات سے مالامال فرمائے  اور مغفرت  خلاصئ  جہنم کا سبب بنائے آمین بجاہ السید الامین صلی اللہ علیہ وسلم.


Source link

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: