تفسیر قرآن مجید

قرآن سے خاندانی مسائل کا حل

 قرآن حکیم امت محمدیہ کے لیے صبح قیامت تک ہدایت کا سرچشمہ اور مشعل راہ ہے،یہ مقدس کتاب اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ایک ضابطہ حیات ہے، جس میں انسان کے ہر پہلو پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے، اس مقدس کتاب میں جہاں ایک طرف حلت و حرمت ،پند و نصائح جیسی وہ تمام چیزیں ہیں جن پر عمل کرکے انسان ایک سچا مسلمان بن کر حیات سرمدی سے بہرہ ور ہو سکتا ہے تو وہیں دوسری طرف اس محکم تنزیل میں حقوق انسانی کے حوالے سے بھی بے شمار ارشادات و توجیہات ہیں،جن پر انسان اگر کماحقہٗ گامزن ہوجائے تو وہ عدل و انصاف کا پیکر اور سماج میں ایک اعلی مقام حاصل کرکے سرفراز ہو سکتا ہے. 

موجودہ دور میں اگر ہم خاندانی مسائل پر بات کریں تو شاید و باید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جو خانہ جنگی کا شکار نہ ہو، جس کے ساکنین  باہمی اختلاف کی زد میں نہ ہوں اور بالیقین یہی خانہ جنگی اور آپس میں لڑائی جھگڑے ، ہمارے گھر اور خاندان کی نشونما فلاح وبہبود اور ترقی میں مانع ہوتے ہیں۔ 

اختلاف زوجین اور ان کا حل۔ 

گھر کی ترقی کا انحصار زوجین کے باہمی رشتے پر ہوتا ہے ، میاں بیوی جب تک ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہتے ہیں ، تب تک پورے گھر کا ماحول صحیح و سالم رہتا ہے لیکن  زوجین کے درمیان کی عدم اتفاقی اور معمولی سی ان بن  پورے گھر کی فضا کو مسموم و مکدر کر دیتی ہے جس سے نہ صرف ان دونوں کا مستقبل بلکہ بچوں کی تربیت پر بھی ایک برا اثر پڑتا ہے ، ساتھ ہی ساتھ  پورے گھر کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ 

آئیے اس حوالے سے ہم قرآن پاک کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ اللہ رب العزت نے اس پاک رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے ارشاد فرماتا ہے! 

      اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھیں اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔  ( سورة روم30,آيت 21) 
                    
اس آیت کریمہ  کی تفسیر میں آتا ہے کہ اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے عورتیں بنائیں، جو شرعی نکاح کے بعد تمہاری بیویاں بنتی ہیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اگر اللہ تعالی آدم کی اولاد  سے صرف مرد پیدا فرماتا، عورتوں کو ان کے علاوہ کسی دوسری جنس جیسے جنات یا حیوان سے پیدا فرماتا تو مردوں کو عورتوں سے سکون حاصل نہ ہوتا بلکہ ان میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ دو مختلف جنسوں کے افراد میں ایک دوسرے کی طرف میلان نہیں ہوتا اور وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل نہیں کر سکتے اور انسانوں پر اللہ تعالی کی طرف سے یہ کمال رحمت ہے کہ مردوں کے لئے انکی جنس سے عورتیں بنانے کے ساتھ ساتھ شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور رحمت رکھی ۔ (تفسیر کبیر) 

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت نے میاں اور بیوی کے درمیان کافی الفت و محبت کو پیدا فرمایا ہے لیکن یہ ہماری کمی ہے کہ چند غلط فہمیوں کے باعث زوجین میں تفریق کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے ، لہذا ہمیں قرآن کی ان آیات طیبات  کے ذریعے اپنے باہمی رشتے کو مخاصمت و منافرت سے دور رکھ کر باہم محبت و مودت سے رہنا چاہیے اور اس کے علاوہ بھی بے شمار آیات طیبات قرآن پاک میں موجود ہیں، جس میں اللہ تبارک و تعالی نے میاں اور بیوی کو محبت سے رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ 

والدین سے اختلاف اور اس کا حل۔ 

عصر حاضر میں خاندانی مسائل کی فہرست میں والدین کی نافرمانی بھی قابل ذکر مسئلہ ہے کہ ہمارے والدین ہماری نشوونما میں طرح طرح کے  مصائب و آلام کو برداشت کرتے ہیں  لیکن افسوس کہ بڑے ہو کر ہم اپنے والدین کے تمام تر احسانات کو بھول جاتے ہیں،اب والدین ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے ،اب دیکھیں کہ قرآن میں  بچے کے متعلق والدہ کی خدمات کو اللہ رب العزت قرآن پاک میں بیان فرماتا ہے۔ 

 ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی  کرے، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں مشقت سے رکھا اور مشقت سے اس کو جنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینہ ہے . 
                                     (الأحقاف46, آيت 15 ) 

اس کے علاوہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بے شمار مقامات پر اولاد سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارے میں ارشاد فرمایا  جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں۔  

اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے خوبصورت نرم کلام کرنا. (سورة الإسراء آيت 23 ) 
             
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ کی تخلیق اور ایجاد ہے  جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں اور باپ ہیں ، اس لیے اللہ تعالی نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا حکم دیا پھر اس کے بعد ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اپنے والدین کے ساتھ انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کہ جس طرح والدین کا تم پر احسان عظیم ہے تم پر لازم ہے کہ تم بھی  ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو۔

جب مذہب اسلام ہمیں اپنے والدین سے اف کہنے کی اجازت نہیں دیتا تو کوئی ان سے لڑے، جھگڑے اور اختلاف کرے تو اسلام اسے کیسے گوارا کر سکتا ہے ، اس کے علاوہ بھی بے شمار آیات ہیں جن سے ہمیں والدین کی اطاعت و فرمانبرداری  کا درس ملتا ہے، تاہم اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ  اگر قرآن پاک کو صدق  دل سے پڑھ کر سمجھ لیا جائے تو تمام امور کے ساتھ ساتھ یہ ہمارے خاندانی مسائل کو بھی حل کرنے میں قدم قدم پر ہماری رہنمائی کرتا ہوا نظر آئے گا۔ 

بھائیوں میں اختلاف اور اس کا حل ۔ 

خاندانی مسائل کی ضمن  میں بھائیوں کا اختلاف بھی ایک بہت بڑی بربادی کا سبب  ہے، اگر ہم بچپن کی بات کریں تو کم سنی میں بھائی باہم الفت و محبت کی زندہ مثال ہوا کرتے ہیں ، لیکن جیسے جیسے ان کی عمریں طویل ہوتی ہیں ، ان میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں اختلاف شروع ہو جاتا ہے اور یہی اختلاف آگے چل کر ایک جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے ،ان میں تفرقہ پڑ جاتا ہے  ،جس سے پورے گھر کی خوشحالی ماتم میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور وہ گھر نمونہ جہنم بنتا ہوا نظر آتا ہے،

اللہ رب العزت کا بے پناہ  فضل و احسان ہے کہ اس نے تمام اختلافات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بھائیوں کے اختلافات کو بھی ختم کرنے کے طریقوں کو بیان فرما کر آپس میں محبت سے رہنے اور زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا، ایک بھائی کی موجودگی  دوسرے بھائی کے لیے کس قدر اہمیت کی حامل ہے، آئیے ملاحظہ کریں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے !
ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے تقویت بخشینگے (القصص 28,35)

پتہ چلا کہ بھائی اللہ تبارک و تعالٰی کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں، کیونکہ اللہ ان کے ذریعے ہمارے بازؤوں کو قوت  عطا فرماتا ہے ، لہذا ہمیں اپنے بھائیوں سے محبت سے رہنا چاہیے ، ان کی تعظیم و تکریم کرنی چاہیے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں  کمی اور کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ 

عام طور سے بھائیوں میں اختلاف کی سب سے بڑی وجہ گھر کی زمین و جائیداد میں ایک دوسرے کی حق تلفی کرنا ہے اور اس مسئلے کا حل بھی اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرما دیا ہے! 
اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اور فضول خرچی نہ کرو۔( بنی اسرائیل  17 ،26 )

لہذا اگر زمین و جائیداد کے معاملے میں ہم پوری دیانتداری کا مظاہرہ کریں ، تو ان شاءاللہ بھائیوں میں اختلاف کا دروازہ ہی نہیں کھلے گا اور ہمارا گھر ترقیوں کی جانب رواں دواں رہے گا ۔ 
بلا شبہہ قرآن کریم قیامت تک  مسلمانوں کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس میں ہماری زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود ہے، لیکن ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں،لیکن اس کے معانی اور مفاہیم کو نہیں سمجھتے ،اسی لیے ہم قرآن سے ایک ضابطہ کے طور پر مستفید و مستنیر نہیں ہو پاتے ، لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن کے ترجمہ   کو  سمجھ کر پڑھیں اور تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے ترجمے کو پڑھنے پڑھانے کا ماحول بنائیں تاکہ عوام الناس بھی قرآن کے ترجمہ سے مکمل طور سے آگاہی حاصل کریں اور اپنے خاندانی مسائل کا باسانی حل تلاش کرسکیں۔ 

از قلم: محمد احمد حسن امجدی ۔ ریسرچ اسکالر۔ البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ۔ 
8840061391

Source link

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: