خصوصی مضامین

شب قدر ہزار راتوں سے افضل ہے

اللہ تبارک و تعالی کی عطا کردہ مبارک مہینوں میں سے ایک عظمت و رفعت والا عظیم ترین مہینہ رمضان المبارک کا ہے اس ماہ مبارک میں ایک ایسی رات بھی آتی ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے اس رات میں جو دعائیں ادب اور اخلاص کے ساتھ کی جاتی ہے وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہو جاتی ہیں۔ اس رات میں جو شخص بھی اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے اور اسے ایک پاک صاف اچھا انسان بنا دیا جاتا ہے اس کی تمام خطاؤں کو معاف کردیا جاتا ہے بے شک رمضان المبارک کا مہینہ  اور اس میں کی جانے والے ساری عبادتیں تمام عبادتوں سے افضل ہے۔ اس رمضان المبارک کے مہینے میں ہزار راتوں سے افضل رات بھی آتی ہے جس کو ہم شب قدر یا تو لیلۃ القدر کے نام سے جانتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے” شهر رمضان الذي انزل فيه القران ” بيشك يہ وہی رمضان المبارک کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا اور شب قدر جیسی اھم ترین راتوں کو اس ماہ مبارک میں رکھا گیا ۔

یوں تو رمضان المبارک کی ساری راتیں ہی برکت ہیں اور ہر رات رحمت الہی برستی ہے مگر اس ماہ مقدس  کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے پوشیدہ لیلۃ القدر کی تو کیا ہی بات ہے یہ رات انتہائی برکت اور رحمت والی ہے ۔ اس مبارک رات کو لیلۃ القدر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس رات میں پورے سال کے احکام نافذ کئے جاتے ہیں اور فرشتوں کو سال بھر کے کاموں اور خدمات پر مامور کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رات کی دیگر راتوں پر شرافت کے باعث اس کو لیلۃ القدر کہتے ہیں اور یہ بھی منقول ہے کہ اس رات میں نیک اعمال مقبول ہوتے  ہیں خطاؤں کی معافی دی جاتی ہے گناہ گاروں کی توبہ قبول کی جاتی ہے اور بارگاہ الہی میں اس کی قدر کی جاتی ہے اس بنا پر بھی اس رات کو لیلۃ القدر کہتے ہیں ۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ” یعنی جو شب قد میں ایمان و اخلاص کے ساتھ رات کو عبادت کرے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔

ہوسکے تو اس با برکت رات کو پانے کے لیے بالخصوص ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں کو جاگ کر رب الکریم کی وعبادت کیجئے کیونکہ یہ بھلائیوں والی رات ہے، یہ رحمت والی رات ہے، یہ دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے اور یہ بخشش کی رات ہے  اسی وجہ سے تو ہمارے پیارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پانے کیلئے آخری دس دنوں میں خوب عبادت کرتے، راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے۔ ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر میں نماز ادا فرماتے، قرآن کریم کی تلاوت، دعا اور ذکر و اذکار بھی فرماتے۔ مولائے کائنات امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ  عنہ سے روایت ہے کہ “جو شخص رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کے اس کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد بعد سورۃ القدر ایک بار اور سورۃ الاخلاص سو بار پڑھے جب نماز سے فارغ ہو جائے تو پھر سو بار درود پاک پڑھے تو اس شخص کو بےشمار اجر و ثواب حاصل ہوگا” ۔ حضرت سیدنا علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں : “جو شخص شب قدر میں خلوص نیت سے نوافل پڑھے گا اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے “۔ لہذا اس رات کو هرگز غفلت میں نہیں گزارنا چاہیے جو اس رحمت الہی سے محروم ہو گیا تو وہ بہت ہی بدنصیب ہے، چنانچہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا تمام بھلائی سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقتاً محروم ہے ۔ اس طرح رات دعا بھی مانگی کہ شب قدر میں ایک گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے اس میں دعا مانگی جائے تو قبول ہوتی ہے ، اس رات ایسی دعائیں مانگنی چاہیے کہ جو دونوں جہاں میں فائدہ مند ہوں مثلا اپنے گناہوں کی معافی اور رضائے الہی کے حصول کی دعا کریں اس رات میں دعا مانگنے کی ترغیب ہمارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ۔

یاد رکھیں جس طرح شب قدر رحمتیں نازل ہونے کا سبب ہے اسی طرح لیلۃالقدر کا دن بھی عظمتوں اور برکتوں والا ہے  لہذا اس دن بھی خوب عبادت کرنی چاہیے ،چنانچہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” میں چاہتا ہوں کہ لوگ لیلۃ القدر کے دن کبھی رات کی طرح دلچسپی سے عبادت کرے ” ۔ تاریک  سلطنت مخدوم حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں سے ہے :” ستائیسویں رمضان مبارک دن میں بارہ رکعت نماز ادا کرے اس کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ، آیت الکرسی اور سورۃ القدر ایک بار اور سورۃ الاخلاص سات بار پڑھے، جب نماز سے فارغ ہو جائے تو تین بار لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہے پھر تین بار درود پاک بھیجیں۔ تو قیامت کے دن اس سے بے حساب عذاب دور فرمائے گا اور وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ جنت میں داخل ہو گا” ۔

 لہذا ہمیں چاہیے کہ کہ ماہ رمضان المبارک اور اس کے مخصوص راتوں کو بالخصوص رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی اللہ کریم کی اطاعت و عبادت میں بسر کریں تاکہ ہم روز محشر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سرخرو ہو کر جہنم کے عذاب سے بچنے میں کامیاب ہوسکے۔ اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اے اللہ اپنے پیارے حبیب کے طفیل ہم گناہ گاروں کو لیلۃ القدر کی برکتوں سے مالا مال فرما اور زیادہ سے زیادہ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔


Source link

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: